S Aoun Raza Kazmi
This is an Official page of Shia Scholar nd Khateeb Syed Aoun Raza Kazmi
27/04/2025
26/04/2025
17/04/2025
احکام شرعی
(آیتالله سید علیحسینی سیستانی)
1مسلہ سے مسلہ 5 تا 💗
مسئلہ (۲)
دینی احکام میں تقلید یعنی کسی مجتہد کے فتوے پر عمل کرنا۔اوریہ ضروری ہے کہ جس مجتہد کی تقلید کی جائے وہ مرد، بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، حلال زادہ، زندہ اور عادل ہو،اور عادل وہ شخص ہے جواپنے اوپر تمام واجب شدہ کاموں کو بجا لائے اورحرام شدہ کاموں کوترک کرے۔ عادل ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھاشخص ہواور اس کے اہل محلہ یاہمسایوں یاہم نشینوں سے اس کے بارے میں دریافت کیاجائے تووہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں ۔
اگریہ بات(اگرچہ اجمالاً)معلوم ہوکہ درپیش مسائل میں مجتہدین کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں توضروری ہے کہ اس مجتہدکی تقلید کی جائے جو ’’اعلم‘‘ ہویعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتہدوں کے مقابلے میں احکام الٰہی کوسمجھنے میں سب سے بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔💗التماس دعا
مسئلہ (۱)
ہرمسلمان کے لئے اصول دین کوازروئے بصیرت جاننا ضروری ہے کیونکہ اصول دین میں کسی طورپربھی تقلید نہیں کی جاسکتی یعنی یہ نہیں ہوسکتاکہ کوئی شخص اصول دین میں کسی کی بات صرف اس وجہ سے مانے کہ وہ ان اصول کوجانتاہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسلام کے بنیادی عقائد پریقین رکھتاہواور اس کااظہار کرتاہو(اگرچہ یہ اظہار ازروئے بصیرت نہ ہو)تب بھی وہ مسلمان اور مومن ہے۔ لہٰذا اس مسلمان پر ایمان اور اسلام کے تمام احکام جاری ہوں گے،لیکن (مسلّمات دین)کوچھوڑکرباقی دینی احکامات میں ضروری ہے کہ انسان یاتوخود مجتہدہویعنی احکام کودلیل کے ذریعے حاصل کرے یاکسی مجتہد کی تقلید کرے یاازراہ احتیاط اپنافریضہ یوں اداکرے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ مثلاًاگرچند مجتہد کسی عمل کو حرام قرار دیں اور چنددوسرے کہیں کہ حرام نہیں ہے تواس عمل کوانجام نہ دے اور اگربعض مجتہد کسی عمل کو واجب اور بعض مستحب کہیں تواسے بجالائے۔لہٰذاجو افراد خود مجتہدنہیں ہیں اور نہ ہی احتیاط پرعمل کرسکتے ہیں توان پرواجب ہے کہ کسی مجتہد کی تقلید کریں ۔💗
11/04/2025
احتیاطی کی بنا پر بچے کو اپنی گود میں نہ اٹھائیں,,💞
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Isfahan