دواخانہ حکیم عمران کمبوہ
حکیم عمران کمبوہ صاحب سے آن لائن مشورہ یا کنسلٹنسی لینی ہو تو اس وٹس ایپ نمبر پر میسج کریں
03046539899
24/08/2026
شیخوپورہ آنا ہو اپنے پیارے دوست نتھو ٹکیاں والے کے پاس نہ آوں یہ ہو نہیں سکتا۔انتہائی مزیدار اور سادہ اجزاء سے تیار کی ہوئی ٹکیاں جو کھا کے بچپن کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔آپ شیخوپورہ آئیں اور رام تلائی روڈ پر نتھو ٹکیاں والووں سے ٹکیاں ضرور کھائیں
22/08/2026
لبیک الھم لبیک لاشریک لک لبیک
معدے کو سپر فٹ کرنے کا ٹوٹکہ
18/08/2026
ایک بزرگ خاتون کبھی اپنے گھر کی ملکہ تھیں۔ شوہر ایک معروف ٹی وی چینل میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز رہے۔ گھر میں عزت، سکون اور خوشحالی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد بھی بڑے بیٹے نے ماں کو اپنے پاس رکھا اور پوری محبت سے ان کی خدمت کی۔
وہ بیٹا ایک بینک افسر تھا۔ ماں کی ہر ضرورت وقت پر پوری ہوتی۔ ماں نے بھی بیٹے کے لیے اپنی پسند کی دلہن تلاش کی اور بڑی خوشی سے اس کی شادی کی۔
مگر قسمت نے اچانک سب کچھ بدل دیا۔
ایک دن بیٹے کو دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔
جس بیٹے کو ماں اپنا سہارا سمجھتی تھی، وہی سہارا چھن گیا۔ بہو بچوں سمیت میکے چلی گئی اور پیغام بھیج دیا کہ وہ واپس نہیں آئے گی، اس کا سامان بھجوا دیا جائے۔
اب بوڑھی ماں چھوٹے بیٹے کے گھر آگئیں۔
وہ مالی طور پر کسی کی محتاج نہیں تھیں، پنشن ملتی تھی۔ ان کی دنیا بھی بہت چھوٹی تھی؛ ایک کونے میں بیٹھ کر نماز پڑھنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور خاموشی سے وقت گزارنا۔
لیکن گھر کا ماحول دن بدن تلخ ہوتا گیا۔
ایک دن بہو نے غصے میں انہیں گریبان سے پکڑ کر گھر سے نکل جانے کو کہا۔
سب سے زیادہ تکلیف شاید بہو کے الفاظ سے نہیں ہوئی…
تکلیف اس بات کی ہوئی کہ بیٹا سب کچھ دیکھتا رہا۔
ماں نے پھر بھی صبر کیا۔
اگلے دن نہ ناشتہ ملا، نہ دوپہر کا کھانا۔ جب ماں نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا:
"یہاں کوئی لنگر خانہ نہیں کھلا ہوا۔"
وہ بوڑھی ماں خاموشی سے اٹھیں، پڑوس میں گئیں اور ایک ہمسائی سے کہا:
"بیٹی، میرے لیے کوئی اولڈ ہوم تلاش کر دو… میں اب کسی کے گھر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔"
ہمسائی نے انسانیت کا حق ادا کیا۔ اسی دن ایک اولڈ ہوم تلاش کیا اور اپنی گاڑی میں اس بزرگ خاتون کو وہاں چھوڑ آئی۔
دو دن بعد بیٹا آیا۔
ماں کے کپڑے، شناختی کارڈ اور پنشن کارڈ ان کے حوالے کیے اور صرف ایک جملہ کہا:
"ماں… میں مجبور ہوں۔"
ماں نے بیٹے کو دیکھا۔
نہ بددعا دی، نہ شکوہ کیا، نہ کوئی سوال کیا۔
بس اتنا کہا:
"بیٹا، میں نے تمہیں معاف کیا۔ جاؤ، اللہ تمہیں خوش رکھے۔"
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ماں نے وہ بات کہی جو شاید اس بیٹے کے دل پر ہمیشہ بوجھ بنی رہے گی:
"لیکن اگر میں مر جاؤں تو یہاں آنے کی زحمت نہ کرنا۔ آج میں تمہارے لیے مر گئی ہوں۔ میری میت کو ہاتھ نہ لگانا، میرا آخری دیدار بھی نہ کرنا… میرے کفن اور دفن کا انتظام یہی لوگ کریں گے۔"
ماں نے بیٹے کو معاف تو کر دیا…
مگر اپنے دل سے اس رشتے کی امید ختم کر دی۔
💔 اولاد شاید یہ بھول جاتی ہے کہ والدین ہمیشہ زندہ نہیں رہتے۔
ایک دن وہی ماں جو ہماری ایک آواز پر دوڑ کر آتی تھی، خاموشی سے دنیا سے چلی جائے گی۔
اس دن نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ، نہ مصروفیات، نہ یہ جملہ کہ "میں مجبور تھا۔"
اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی ان کے پاس بیٹھیں۔
ان کا ہاتھ تھامیں۔
ان سے کہیں:
"امی/ابو، آپ ہمارے لیے بوجھ نہیں… ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔"
کیونکہ قبرستان میں کھڑے ہو کر آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ زندہ ماں باپ کی آنکھوں میں خوشی کے دو آنسو لائے جائیں۔ ❤️
گرم مزاج والوں کے لیئے بہترین دیسی ٹوٹکہ
17/08/2026
میرے لان میں چھوٹا سا جنگلی پودینے کا بہت پودا لگا ہوا ہے میں اس کے پاس جاتا ہوں اس کی خوشبو لیتا ہوں اس کے پتے توڑ کر چبا لیتا ہوں
جیسے ہی پتہ توڑتا ہوں اس کی خوشبوئیں پھوٹ پڑتی ہیں، دماغ تر و تازہ ہو جاتا ہے
اور سانس معطر ہو جاتی ہے
اس کی خوشبو ایسی ہے جو دماغ کو سکون دیتی ہے اور ذہن کی تھکن دور کر دیتی ہے
اسی طرح اسکو پانی میں بھگو کر پی لیں تو معدے کی گیس، بدہضمی اور متلی ختم ہو جاتی ہے۔
دیکھنے میں تو یہ ایک عام سا پودا ہے لیکن اللہ پاک نے اس میں انسان کے لیے بہت بڑی شفا رکھی ہے۔
قدرت نے ہمارے ارد گرد بہت سادہ نعمتیں بنائی ہیں جن میں ہمارے لیے شفا ہی شفا ہے
ہمیں اللہ پاک کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"
17/08/2026
آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا رہے تھے۔ پہلے مجھے لگا شاید دانتوں کی وجہ سے نرم سالن وغیرہ نہیں کھا سکتے، لیکن دل نے گوارا نہیں کیا اور میں ان کے پاس چلا گیا۔
میں نے پوچھا، “انکل کیا کرتے ہیں؟”
کہنے لگے، “بیٹا، سیکیورٹی گارڈ ہوں۔”
پوچھا، “تنخواہ کتنی ہے؟”
کہنے لگے، “25 ہزار روپے۔”
پھر میں نے پوچھا، “انکل، اتنی تنخواہ میں گھر کیسے چلتا ہے؟ بچے کتنے ہیں؟”
انکل نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ گھر میں کمانے والا صرف میں ہوں۔
میں نے روٹی اور پیاز کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “انکل سالن وغیرہ نہیں کھاتے؟”
انکل کی اگلی بات نے دل توڑ دیا۔ کہنے لگے:
“بیٹا، دو دن سے گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیٹی بیمار ہوگئی تھی، علاج کے لیے ایک شخص سے قرض لیا تھا۔ تنخواہ آئی تو سارا قرض واپس کردیا، اس کے بعد گھر کا راشن خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے۔”
ذرا سوچیں… ایک 65 سالہ بزرگ، جو دن رات ہماری دکانوں اور کاروبار کی حفاظت کرتا ہے، خود اپنے گھر کے لیے دو وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر پا رہا۔
ہم اکثر دکانوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیچھے ایک پورا گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں، بجلی کے بل ہوتے ہیں اور راشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
میں نے انکل سے پوچھا کہ “یہ بیکری والے آپ کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتے؟”
انکل نے بتایا کہ اگر کچھ چیزیں بچ بھی جائیں تو انہیں کھانے کے لیے نہیں دیا جاتا، بلکہ ضائع کردی جاتی ہیں۔
یہ سن کر واقعی دل دکھا۔ اگر کسی جگہ کا سیکیورٹی گارڈ پوری ایمانداری سے آپ کی دکان، آپ کی پراپرٹی اور آپ کے کاروبار کی حفاظت کر رہا ہے تو کم از کم انسانیت کے ناطے اس کا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔
کھانا ضائع کرنے کے بجائے کسی بھوکے انسان کو دے دینا کون سا مشکل کام ہے؟
میں نے انکل کو کچھ رقم دی اور الگ سے راشن کے پیسے بھی دیے اور کہا:
“انکل، کل گھر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے اچھا سا کھانا لے کر جانا، گھر کا راشن لے کر جانا اور بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا۔”
اللہ گواہ ہے، انکل کے چہرے پر آنے والی خوشی دیکھ کر دل بھر آیا۔
میری پاکستان کے ہر صاحبِ حیثیت انسان سے ایک چھوٹی سی اپیل ہے: جب بھی کسی دکان، بیکری، ہوٹل یا مارکیٹ کے باہر کوئی بزرگ سیکیورٹی گارڈ نظر آئے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ اگر استطاعت ہو تو جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی ٹپ دے دیں، پانی پلا دیں یا کچھ کھانے کو دے دیں۔ شاید آپ کے لیے چند سو روپے معمولی ہوں، لیکن اس بزرگ کے لیے وہ پورے گھر کی خوشی بن سکتے ہیں۔
اور کاروبار کرنے والے تمام بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جو لوگ آپ کی پراپرٹی کی حفاظت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھا کریں۔ ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں، ان کی ضروریات پوچھیں اور انہیں عزت دیں۔
کیونکہ ہر غریب انسان صرف مدد کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت کا بھی حق دار ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس بزرگ کے گھر میں آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے بچوں کے نصیب اچھے کرے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کا درد محسوس کرنے والی انسانیت ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔ 🤲
16/08/2026
یہ چھوٹا سا پودا ہے تخم بالنگا کا۔
جیسے ہی اس کا پتہ توڑیں تو خوشبو کے فوارے ٹوٹ پڑتے ہیں اور دماغ معطر ہو جاتا ہے۔
اس کی خوشبو کے ساتھ شامل ہو کر دماغ کو پرسکون کرنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اسی طرح جب اس کا بیج پانی میں بھگو کر کھایا جائے تو معدے کی گیس، قبض جیسی بیماریوں سے افاقہ ملتا ہے
دیکھنے میں یہ ایک چھوٹا سا پودا ہے لیکن اللہ پاک نے اس کو انسان کے فائدے کے لیے بہت کچھ رکھا ہے۔
قدرت نے انسانیت کے لیے بے مثال نعمتیں بنائی ہیں جن کو ہم جھٹلا نہیں سکتے کبھی بھی۔
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"
بواسیر کے علاج کا آسان نسخہ
خبردار نسخہ جات بغیر طبیب کے مشورے استعمال نہ کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
DawaKhana Hakeem Imran Kamboh G T Road Sethi Plaza Bazar #4 Near Muncipal Corporation Office Opposite Side Govt Heigher Secondary School Gujranwala
Gujranwala
52250
Opening Hours
| Monday | 10:00 - 18:00 |
| Tuesday | 10:00 - 18:00 |
| Wednesday | 10:00 - 18:00 |
| Thursday | 10:00 - 18:00 |
| Saturday | 10:00 - 18:00 |
| Sunday | 10:00 - 18:00 |